Aaj ki Shab Tu kis Taur Guzar Jaye Gi
By Parveen Shakir

By Parveen Shakir
کبھی کبھی میرے دل میں
In case you miss me 🎧🎵
Love Indeed is the strongest emotion. It brings the best out of us. Creativity couldn’t explore its boundaries unless it is seeking the best of it.
A motivational Humd
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی۔۔ اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ تھا تیرا خیال بھی دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی، رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا، اُس پہ تیرا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا ایک دفعہ تو رُک گئ گردشِ ماہ و سال بھی دل تو چمک سکے گا کیا..! پھر بھی تراش کے دیکھ لیں شیشہ گرانِ شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی اُس کو نہ پا سکے تھے جب، دل کا عجیب حال تھا اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی میری طلب تھا ایک شخص، وہ جو نہیں مِلا تو پھر ہاتھ دُعا سے یوں گر...
میں سمجھ گیا ۔۔۔ شاید یہی سمجھداری ہے
زیست کا استعارہ ہو جاۓ اب تو کوئی ہمارا ہو جاۓ ہے کڑا وقت اس پہ شعر کہو شاید اِس سے گزارا ہو جاۓ عین ممکن ہے عشق میں تم کو حد سے بڑھ کر خسارہ ہو جاۓ تم کسی کے کبھی ہوۓ ہو کہاں کوئی کیسے تمہارا ہو جاۓ کیا مقدر میں تھا لکھا میرے کاش کوئی اشارہ ہو جاۓ دن گزر جاۓ گا مسرت سے آپ کا گر نظارہ ہو جاۓ پہلے جیسی کبھی نہیں ہوتی گر محبّت دوبارہ ہو جاۓ تم نظر بھر کے دیکھ لو جس کو وہ چمکتا ستارا ہو جاۓ عشق خود کہہ رہا تھا شوبی سے سب پہ مت آشکارہ ہو جاۓ
فصیلِ جان میں کتنے شِـگاف کـرتا ھـوں عشق پہ جب"شین کاف"کرتا ھوں مرا خُدا تو ھےسب کی سلامتی کا خُدا خُدائےکُشت سے میں اِنحراف کرتا ھوں نِزار فہم کو ھے تـابِ ارتداد کہاں یہ لَن ترانیاں اپنے خلاف کرتا ھوں مرےخمیر میں فرعونیت کا عُنصر ھے بطور ایک بشر اعتراف کرتا ھـوں میں وہ نہیں ھوں جو جَل جاؤں روشنی سے تری میں رکھ کے فاصلہ تیرا طواف کرتا ھوں مرے سُخن میں ھے آیاتِ آگہی کا غُلُو رُموزِ نَحوِ خودی اِنکشاف کرتا ھـوں مرے رفیـق مری شفقتوں پہ نازاں ھـیں میں دشمنوں کو بھی فوراً معاف کرتا ھوں ...
سَاغر صدّیقی ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻏﻢ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻏﻢ ﮐﺎ ﮔﮩﻮﺍﺭﮦ جو آنسو رنگ لے آےٓ وہی دامن کا شہ پارہ جسے اَرماں کا خُوں دے کر بنام آرزو سینچا ! خدا جانے کہاں ہے وہ جہان زندگی آرا مِرا ذوقِ خریداری ہے اِک جنسِ گراں مایہ کبھی پھُولوں کے شیدائی کبھی کانٹوں کا بنجارہ جہاں منصب عطا ہوتے ہیں بے فکر و فراست بھی وہاں ہر جُستجو جُھوٹی ' وہاں ہر عَزم ناکارہ بَسا اوقات چُھو لیتی ہَے دامن کبریائی کا تمہاری جنبشِ اَبرو ' مِری تخلیقِ آوارہ نہ جانے محتسب کیوں میکدے کا نام دیتے ہیں جہاں کچھ آدمی کرتے ہیں اپنے دَ...
”متاعِ الفاظ“ یہ جو تم مجھ سے گریزاں ھو ، میری بات سنو ھم اِسی چھوٹی سی دنیا کے ، کسی رَستے پر اتفاقاً ، کبھی بُھولے سے ، کہیں مل جائیں کیا ھی اچھا ھو کہ ، ھم دوسرے لوگوں کی طرح کچھ تکلف سے سہی ، ٹہر کہ کچھ بات کریں اور اِس عرصۂ اخلاق و مروت میں ، کبھی ایک پل کے لیے ، وہ ساعتِ نازک ، آ جائے ناخنِ لفظ ، کسی یاد کے زخموں کو چُھوئے ایک جھجھکتا ھُوا جملہ ، کوئی دُکھ دے جائے کون جانے گا ؟ کہ ھم دونوں پہ ، کیا بیتی ھے ؟ یہ جو تم مجھ سے گریزاں ھو ، میری بات سنو اِس خامشی کے اندھیروں سے ، ن...
اک حرف فسردہ داغ میں ہے اک بات بُجھے چراغ میں ہے اک نام لہو کی گردشوں میں طوفان میں ڈولتا سفینہ ڈوبے نہ بھنور کے پار اُترے اک شام کہ جس کے بام و در کو ہاری ہوئی صبح سے شکایت رُوٹھے ہوئے چاند کی تمنّا اک راہ نورد جو یہ چاہے پاؤں نہ حدِ وفا سے نکلے سر سے نہ سفر کا بار اُترے پتّا تھا ابھی ہَرا سفر کا کچّی تھی ابھی صدا کی ٹہنی کیوں ریشۂ برگِ کم نمو میں پھر آتشِ رنگ جل اُٹھی ہے کیوں صبح کی بے عمل سپہ نے ہتھیار سجا لیے بدن پر مقتل میں صفیں درست کی ہیں کیوں درد کے جھٹپٹے کی حد پر ...
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں۔۔۔۔۔
عارض اشکوں سے ترے تر نہیں دیکھے جاتے خاک میں رلتے یہ گوہر نہیں دیکھے جاتے دیکھ سکتا ہوں زمانے کی بدلتی نظریں تیرے بدلے ہوئے تیور نہیں دیکھے جاتے آئنہ بھی رخ روشن کے مقابل نہ رہے ہم سے کوئی ترے ہمسر نہیں دیکھے جاتے دل کے ساگر میں جو ہر شام و سحر اٹھتے ہیں وہ تلاطم کبھی باہر نہیں دیکھے جاتے مسکراتے ہوئے چہرے پہ نظر سب کی پڑی زخم دل کے مگر اکثر نہیں دیکھے جاتے حسن کے جلوے جو دیکھے ترے دیوانے نے ہوش والوں سے وہ اکثر نہیں دیکھے جاتے قدر کر قدر مرے ذوق نظر کی ساقی سب حسیں یوں تو مکرر نہی...
Endless expression of an emotion in just one instance
Words can only describe they are just references most of the time
سنو !
اک منٹ
رمضان سپیشل
شہ رگ سے بھی تو قریب ہے ترا یہ کرم ہے کمال ہے یہ جو خاک میں بھی ہے روشنی ترا عکس روئے جمال ہے اسے چاہتوں کا کہوں اثر کہ تو ساتھ میرے ہے ہر ڈگر میں جہاں جہاں بھی کروں نظر ترا حسن ہے بے مثال ہے میں تو خاک ہوں وہ تہ زمیں مرا ہے نصیب فنا جزا ترے تاج شاہی کی بات کیا نہ فنا اسے نہ زوال ہے یہی عشق ایسی ہے رہ گزر ہے بہت کٹھن جو اے ہم سفر نہ رکھیں سنبھل کے قدم اگر چلے وقت الٹی ہی چال ہے ترے قرب میں بھی ہیں دوریاں ترا کچھ عجب سا سلوک ہے وہ سکوں جو تھا ترے قرب میں وہی آج خواب و خیال ہے وہ رفیق ک...
شاعری
An epic expression of life and love by Amjad Islam Amjad
کہاں آکے رکنے تھے راستے کہاں موڑ تھا
Wish you taste the love, I do
Amjad Islam Amjad
Master piece of Faiz Ahmed Faiz
چلو اب ایسا کرتے ہیں۔ Chalo ab aysa kartay hain