زیست کا استعارہ ہو جاۓ
Jun 22, 2024•2 min•Season 2Ep. 6
Episode description
زیست کا استعارہ ہو جاۓ
اب تو کوئی ہمارا ہو جاۓ
ہے کڑا وقت اس پہ شعر کہو
شاید اِس سے گزارا ہو جاۓ
عین ممکن ہے عشق میں تم کو
حد سے بڑھ کر خسارہ ہو جاۓ
تم کسی کے کبھی ہوۓ ہو کہاں
کوئی کیسے تمہارا ہو جاۓ
کیا مقدر میں تھا لکھا میرے
کاش کوئی اشارہ ہو جاۓ
دن گزر جاۓ گا مسرت سے
آپ کا گر نظارہ ہو جاۓ
پہلے جیسی کبھی نہیں ہوتی
گر محبّت دوبارہ ہو جاۓ
تم نظر بھر کے دیکھ لو جس کو
وہ چمکتا ستارا ہو جاۓ
عشق خود کہہ رہا تھا شوبی سے
سب پہ مت آشکارہ ہو جاۓ
For the best experience, listen in Metacast app for iOS or Android
