اک فسردہ داغ میں ہے - podcast episode cover

اک فسردہ داغ میں ہے

May 01, 20245 minSeason 2Ep. 3
--:--
--:--
Download Metacast podcast app
Listen to this episode in Metacast mobile app
Don't just listen to podcasts. Learn from them with transcripts, summaries, and chapters for every episode. Skim, search, and bookmark insights. Learn more

Episode description

‏‏اک حرف فسردہ داغ میں ہے ‏اک بات بُجھے چراغ میں ہے ‏اک نام لہو کی گردشوں میں ‏طوفان میں ڈولتا سفینہ ‏ڈوبے نہ بھنور کے پار اُترے ‏اک شام کہ جس کے بام و در کو ‏ہاری ہوئی صبح سے شکایت ‏رُوٹھے ہوئے چاند کی تمنّا ‏اک راہ نورد جو یہ چاہے ‏پاؤں نہ حدِ وفا سے نکلے ‏سر سے نہ سفر کا بار اُترے ‏پتّا تھا ابھی ہَرا سفر کا ‏کچّی تھی ابھی صدا کی ٹہنی ‏کیوں ریشۂ برگِ کم نمو میں ‏پھر آتشِ رنگ جل اُٹھی ہے ‏ کیوں صبح کی بے عمل سپہ نے ‏ہتھیار سجا لیے بدن پر ‏مقتل میں صفیں درست کی ہیں ‏کیوں درد کے جھٹپٹے کی حد پر ‏پھر ہجر غروب ہو رہا ہے ‏پھر نظم طلوع ہو رہی ہے ‏میں کون جو انجمِ سحر سے ‏اثبات و ثبوتِ ذات چاہوں ‏دریا سے حسابِ آب مانگوں ‏صحرا سے تعینات چاہوں ‏مہتاب سے چاندنی کا معیار ‏مضراب سے زخمِ نغمۂ تار ‏میں کون شمار کرنے والا ‏میں اپنی صدا سے ڈرنے والا ‏بارش سے سفال بھرنے والا ‏میں کون سوال کرنے والا ‏کاغذ پہ سُلگتی شامِ الہام ‏تختی پہ سپیدۂ سحر ہے ‏اے سطرِ نمودِ ذات، تیرا ‏کس ساعتِ معتبر میں گھر ہے ‏اس بام پہ میرے نام کی خشت ‏دیوار پہ دَھر ایاغ میرا ‏مہتاب کو میرے روبرو کر ‏آئینہ ہو مجھ پہ داغ میرا ‏مجھ پر بھی کُھلیں حدود میری ‏مجھ کو بھی ملے سراغ میرا ‏میں کون؟ کہاں مِرا سفر ہے ‏اے سطرِ نمودِ ذات میرا ‏کس ساعتِ بے زماں میں گھر ہے ‏اک تیرِ مفاہمت سے رشتہ ‏صیّاد میں، صَید میں، ہدف میں ‏اک سیلئی موج سے ہیں پیدا ‏سو رابطے ساحل و صدف میں ‏میں اپنا حریف ڈھونڈتا ہوں ‏اک لشکرِ دردِ صف بہ صف میں ‏اُترے یہ سنانِ حرفِ وعدہ ‏خود میرے کنار میں، طرف میں ‏شاید کہ ثبوتِ ذات پاؤں ‏میں اپنی عبارتِ حلف میں ‏اختر حسین جعفری
For the best experience, listen in Metacast app for iOS or Android