محبت مستقل غم ہے
May 12, 2024•2 min•Season 2Ep. 5
Episode description
سَاغر صدّیقی
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻏﻢ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻏﻢ ﮐﺎ ﮔﮩﻮﺍﺭﮦ
جو آنسو رنگ لے آےٓ وہی دامن کا شہ پارہ
جسے اَرماں کا خُوں دے کر بنام آرزو سینچا !
خدا جانے کہاں ہے وہ جہان زندگی آرا
مِرا ذوقِ خریداری ہے اِک جنسِ گراں مایہ
کبھی پھُولوں کے شیدائی کبھی کانٹوں کا بنجارہ
جہاں منصب عطا ہوتے ہیں بے فکر و فراست بھی
وہاں ہر جُستجو جُھوٹی ' وہاں ہر عَزم ناکارہ
بَسا اوقات چُھو لیتی ہَے دامن کبریائی کا
تمہاری جنبشِ اَبرو ' مِری تخلیقِ آوارہ
نہ جانے محتسب کیوں میکدے کا نام دیتے ہیں
جہاں کچھ آدمی کرتے ہیں اپنے دَرد کا چارہ
تِرے گیسو خیالوں کی گرفتِ ناز سے گزرے
کہ جیسے ایک جوگی بَن میں لہراتا ہے دو تارہ
پلٹ آےٓ ہیں شاید انقلابِ دید کے لمحے
نظر کی وُسعتوں میں ڈوبتا جاتا ہے نظّارہ
فقط اِک ہاتھ میں ٹوٹا ہوا ساغؔر اُٹھانے سے
لَرز اٹھا ہے اے یزداں تِری عظمت کا مینارہ
For the best experience, listen in Metacast app for iOS or Android
