¶ परिचय और पॉडकास्ट उद्देश्य
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته आपको मालूम है कि ये सिलसिला हदिश का जो कि मैं इस पॉड्कास्ट में पढ़ रहा हूँ حدیث کا کلیکشن ہے جو صفینا اینجاد کے نام سے موجود ہے और जिसके एडिटर है मौलाना जलील हसन अद्वीर हमतनला हले इसमें इस सफीन है है आतमे इनोंने डिफरेंट टाइटल के तेहत बहुत ही जो
اچھا کلیکشن انہوں نے کیا ہے اور جو بلغر مفید حدیث ہیں اور جو آسان حدیث ہیں اس کا کلیکشن ہے اس کتاب میں ابھی کتاب مارکٹ سے بھی خرید سکتے ہیں سفینہ نجات مولانا جلیل احسن ندوی یہ شائع ہوتی ہے مرکزی مکتبہ اسلامی پبلیکیشن نیو ڈالی سے तो इस किताब से मैं हर रोज इस पॉड़कास्ट में डिफरेंट आहदेश का मताला करता हूँ और इसका तरजमा आपके सामने पेश करता हूँ और दवा करता हूँ कि हम और आप इना आदिश को सुने और उसको अपने आमल में पैवस्त करने कोशिश करें और दूसरी जो कोशिश हमारी होगी वो यह होगी
कि इन हदिफ को और लोगों तक पहुँचाएं ताकि हमारो जो फरीदा है कि اللہ خدا اور سنت اللہ رسول کی باتوں کو اور سارے لوگوں تک پہنچانا یہ کسی حد تک ادا ہو اور اللہ امرے ان عمال کو قبول کرے اور اس کے بدلے ہمیں آخرت میں اشتركوا في القناة
¶ नीयत की अहमियत: तबूक की हदीस
तो आज इस स्लिसले में मैं जैसा कि आप जानते हैं पिछले पॉड्कास्ट में भी हम लोग नियत की पाकिजगी और दुरुस्ति की बात कर रहे थे नियत की पाकिजगी और दुरुस्ति की तेहत इस टाइटल की तेहत डिफरेंट आहदे पिछले चंद पॉड़कास्ट में नश्र के गए थी तो आज इसले कोर आगे बढ़ाते हैं और इसमें इस पॉड़कास्ट के अगली हदिश जो मैं आपके समरे पेश कर रहा हूँ वो इस किताब की हदिश नंबर फॉर है बिसमिल्लाहिरहमारे रहीम انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تبوک کی مہم سے فارغ ہو کر ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس ہوئے
असनाय सफर में आपने फरमाया, कुछ लोग हमारे पेछे मदीना में हैं, लेकिन फिल वाके वो इस सफर में हमारे साथ रहे हैं. हम लोग जिस घाटी में चले और जिस वादी को तैय किया हर जगह वो हमारे साथ रहे हैं उनको उज़र ने रोक दिया था तो इस सादीज की मज़िद तश्री है इस दिस से मालू हुआ कि अगर किसी ने कोई नेकी का काम करने की नियत की Or kisi uzrkipinapar wunakar saka.
¶ नेकी की नीयत का इनाम
تو اللہ کے ہاں آخرت میں اس عمل کے عجر و عنام سے وہ محروم نہ رہے گا نیت کی پاکست گیا اور درست سے اس میں بتایا گیا تھا کہ اگر آپ کی کسی بھی کام میں اگر آپ کی نیت دنیا حاصل کرنے کی ہے تو دنیا ملے گی اور آخرت حاصل کرنے کی ہے تو آخرت ملے گی تو اس حدیث میں وہی وضاحت ہے اور اس سے ہمیں معلوم ہوا کہ اگر کسی انسان نے کسی اچھے کام کی نیت کی دل سے یہ خواہش کی ہے اور کسی وجہ سے کسی ریزن سے اس کو آگے نہیں کر سکا تو اللہ تعالیٰ اس کی اس نیت کی وجہ سے ہی اس کے عمال کو قبول فرمائے گا
جیسے کے ساتھ اس پاڈکاسٹ کو ہی پہ ختم کرتے ہیں امید ہے کہ ہم دعا کریں اپنے لئے بھی اور سب کے لئے کہ ہم آپ اچھی نیت سے اور صحیح بالکل خالص اللہ עמל کے قבולیت اور آخر بھی بدلے کی نیت سے ہم نیک عمل کریں تاکہ ہم کو اس کا بدلہ صحیح بدلہ جواب دے رندگی ہماری اس میں ملے
असलाम अलेकुम एक इलतिजा है अप लोगों से अगर ये पॉड़कास्ट आप सुनते हैं और اس میں آپ کو امید ہے کہ ضرور اس سے فائدہ ہوگا تو آپ اسے اور بھی لوگوں کو پھیلائیں اور بھی لوگوں تک پہنچائیں تاکہ یہ جو حدیث ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سارے لوگوں تک پہنچیں شکریہ بہت بہت
